فکری تعصب

پاکستان کو درپیش مختلف مسائل اور چیلنجز پر بحث کے دوران ہمارے ایک محترم دوست ڈاکٹر حسنین نقوی صاحب نے ہماری توجہ ایک ایسی قومی بیماری کی جانب مبذول کرائی جس کے بارے میں نہ ہم نے کبھی سوچا اور نہ کبھی اسے زیر بحث لایا۔ ہم سب بحثیت قوم یا تو اس بیماری کا شکار ہیں یا پھر اس کے متاثرین میں سے ہیں۔ اس بیماری کا نام فکری تعصب ہے۔ فکری تعصب اور بددیانتی ہمارا ایک ایسا مسئلہ ہے جو قوم کی صحیح سمت میں رہنمائی میں ایک بڑی رکاوٹ ہے، اور قوم کی مختلف بنیادوں پر تقسیم میں ایک بڑا اور برا کردار ادا کر رہا ہے۔

فکری تعصب کیا ہے؟ فکری تعصب ہمارے ملک کے بیشتر پڑھے لکھے لوگوں (جنہیں ہم اپنے مختلف مسائل کے حل کے لیے عقل کل مانتے ہیں یعنی علمائے کرام، اساتذہ کرام، دانشوروں، مصنفین، مفکرین، تجزیہ کاروں، کالم نگاروں، اور صحافی حضرات) میں پائی جانے والی ایک ایسی بیماری ہے جو ان کو جانتے بوجھتے ہوئے بھی حقیقی سچ بیان کرنے سے روکتی ہے۔ ایسے لوگ مختلف تعصبات کے پیشِ نظر کسی بھی معاملے میں عوام کے ساتھ صحیح رائے کا اظہار کرنے کی بجائے غلط فکر کو پروان چڑھاتے ہیں۔ اس کے بدلے یہ دانشور حضرات کبھی محض تھوڑی سی رقم اور طاقت ور حلقوں کی خوشنودی، یا کبھی اپنے مخالف کو نیچا دکھانے اور اپنی ذاتی انا کی تسکین کے لئے ایسا کرتے ہیں۔ لیکن فکری تعصب کی سب سے خطرناک صورت اور وجہ ہماری کسی خاص سوچ، فکر، مسلک، علاقے، یا زبان سے بےجا وابستگی ہے۔ جب ایک عالم، مفکر، صوفی، صحافی، یا دانشور اپنے خیالات کو محدود کر لے اور صرف اپنے نقطۂ نظر کو عین صحیح سمجھے تو وہ نہ قوم کی صحیح معنوں میں تربیت کر سکتا ہے نہ ان کے مسائل کا صحیح حل بتا سکتا ہے، بلکہ وہ صرف معاشرے میں عدم برداشت، تفرقہ، اور ایک خلیج پیدا کرتا ہے۔

فکری تعصب کی مختلف وجوہات اور ان کے نتائج پر بحث سے پہلے اس کی چند ایک مثالیں بیان کرنا ضروری ہے تا کہ مقدمہ واضح ہو جائے۔ فکری تعصب کی کئی ایک مثالیں آپ میڈیا اور میڈیا پر موجود چند دانشور حضرات میں تلاش کر سکتے ہیں۔ جیسا کہ چند صحافی حضرات اور دانشور جب اہم قومی اور ملکی امور پہ بات کرنے جا رہے ہوتے ہیں تو آپ پہلے سے بتا سکتے ہیں کہ انکا موقف کیا ہو گا۔ ایسا کیوں ہے؟ اس لیے کہ ان کے متعصبانہ نقطۂ نظر کی وجہ سے ہر کسی کو معلوم ہو چکا ہے کہ وہ کس فکر یا نظریے کی ترویج کرتے ہیں۔ جہاں چند دانشور حکومت وقت کے ہر کام کو ہمیشہ عمدہ کہیں اور وہیں کچھ دانشور حکومت کے اچھے کاموں میں بھی کیڑے نکال رہے ہوں تو آپ سمجھ جائیں یہ دانشور فکری تعصب کا شکار ہیں۔ یہی حال دینی معاملات میں ہمارے علمائے کرام کا ہے، وہ بھی آپ کو کسی دوسرے مسلک کی کوئی اچھی بات نہیں بتائیں گے بلکہ ہر مسلک دوسرے کو کافر قرار دینے اور دوسروں کی غلط باتوں کو اچھالنے میں مصروف ہے۔ بھلا ایسا کیسے ہو سکتا ہے کہ کسی بھی ایک مسلک کی ہر بات ٹھیک ہو اور دوسرے کی ہر بات غلط؟ لہذا ایسے علماء کرام بھی فکری تعصب اور بددیانتی کا شکار ہیں۔

فکری تعصب کی ایک لازوال مثال کالا باغ ڈیم اور اس سے جڑی ہوئی بحث ہے۔ کالا باغ ڈیم جو ہمارا ایک قومی اثاثہ بن سکتا تھا سیاسی اور علاقائی تعصب کی بھینٹ چڑھ گیا۔ آج دنیا اس مقام تک ترقی کر چکی ہے کہ آپ دنیا کے اور پاکستان کے بہترین ماہرین اور انجینئرز کو اکٹھا کر کے کالا باغ ڈیم کی افادیت یا ممکنہ نقصانات پر ایک علمی اور نتیجہ خیز بحث کر سکتے ہیں، لیکن ہمارے میڈیا نے کبھی ایسی علمی بحث منعقد نہیں کروائی، بلکہ سیاستدانوں اور نام نہاد دانشوروں کے مکالمے ہی کروائے جس کا نتیجہ یہ ہے کہ ان سیاستدانوں اور دانشوروں نے ہمیشہ اسے سیاسی اور علاقائی تعصب کے تناظر میں دیکھا اور ہمارے سادہ لوح لوگوں کو گمراہ کیا۔

ہمارے ہاں فکری تعصب کی مختلف شکلوں میں مذہبی، مسلکی، علاقائی، لسانی، سیاسی اور نظریاتی تعصبات سر فہرست ہیں۔ جو ہمارے قومی اتفاق رائے اور اتحاد کے لیے نقصان دہ ہیں۔ کیوں کہ فکری تعصب ایک ایسا معاملہ ہے جو قوم میں نہ صرف تنگ نظری اور عدم برداشت کو فروغ دیتا ہے بلکہ مسائل کے حل کی بجائے انہیں مزید پیچیدہ بنا دیتا ہے، اس لیے بنیادی طور پہ اس کی حوصلہ شکنی کی جانی چاہیے۔ لیکن بد قسمتی سے وہ عناصر (یعنی دانشور حضرات) جنہیں اس کی حوصلہ شکنی کرنی چاہیے خود اسی کا شکار ہیں۔ اس کا مظاہرہ آپ مختلف پروگراموں میں دیکھ چکے ہوں گے، جب ہمارے علماء، دانشور اور تجزیہ کار ایک دوسرے کا موقف تحمل سے سننے اور اس پہ علمی بحث کرنے کی بجائے آپس میں دست و گریباں ہوتے ہیں۔ یا مسائل کے حل کے لیے علمی اور عقلی دلائل کی بجائے متعصبانہ رویہ اختیار کرتے ہیں اور نتیجتاً مسائل اور ان کے ممکنہ حل میں شکوک وشبہات پیدا کرتے ہیں۔


فکری تعصب اور اس کے قومی سطح پر نقصانات سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ

اول – ہم اپنے دانشور حضرات کی توجہ اس مسئلے کی طرف دلائیں، ان کو اس بارے میں بات کرنے پہ مجبور کریں اور ہم ایسے متعصبانہ رویوں کی نشاندہی کریں۔ اور دانشور حضرات کو بھی چاہیے کہ وہ خود احتسابی پر آمادہ ہوں اور غلط رہنمائی کرنے پر نہ صرف قوم سے معافی مانگیں بلکہ آئندہ ایسے متعصبانہ خیالات کی حوصلہ شکنی کریں۔

دوم – ہم عوام کو تعلیم اور تربیت دیں تاکہ وہ ایسے معاملات کی خود سے جانچ کر سکیں، اور اس موضوع پر نہ صرف قومی نشریاتی اداروں پر پروگرام کیے جائیں بلکہ سکول، کالج اور یونیورسٹی کی سطح پر طلبا اور طالبات سے مضامین لکھوائے جائیں اور ان کے درمیان تقریری مقابلے کروائے جائیں۔ تاکہ عوام خصوصاً نوجوان نسل کو اس بارے میں آگاہی حاصل ہو۔

سوم – ہمیں بحثیت قوم کسی بھی ایک عالم، مفکر، یا دانشور کی اندھی تقلید نہیں کرنی چاہیے۔ کیونکہ ہم میں سے کوئی بھی شخص کامل نہیں اور ہم سب غلطی کرنے کے مجاز ہیں۔ لہذا ہمیں ہر ایک کا موقف کھلے دل کے ساتھ سننے کے بعد اسے صرف اور صرف ایک مسلمان اور ایک پاکستانی کی حیثیت سے تمام تعصبات سے بالاتر ہو کر علمی اور عقلی دلائل پر پرکھنا چاہیے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم عوام میں فکری تعصب سے متعلق شعور پیدا کریں تاکہ وہ ایسے علماء، اساتذہ، دانشوروں، صحافیوں، تجزیہ کاروں، اور دیگر صاحب اثر لوگوں کی نشاندہی کر سکیں جو اس بیماری کا شکار ہیں اور ان کی متعصبانہ رائے کو نظر انداز کر سکیں۔

Author: Abu Muhammad
The writer is the Editor at mPKg (www.makingpakistangreat.com) and can be reached at: abumuhammad.mpkg(at)gmail(dot)com.

One thought on “فکری تعصب

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s