کیا سی پیک واقعی ایک گیم چینجر منصوبہ ہے؟

اسلامی جمہوریہ پاکستان خدا تعالی کی ایک عظیم نعمت ہے۔ پاکستان کی اپنی ایک جغرافیائی اہمیت ہے جس سے قطعی انکار ممکن نہیں اور یہی ایک وجہ اسے دنیا کے تمام ممالک سے ممتاز کرتی ہے۔ دنیا کے تمام دفاعی تجزیہ کار اس بات کا برملا اظہار کرتے رہے ہیں کی پاکستان کی جغرافیائی اہمیت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان اپنے قیام سے اب تک اسکی ایک بھاری قیمت چکا رہا ہے۔ دنیا کی تمام بڑی طاقتوں کی نظریں پاک سر زمین پر مرکوز رہیں اور تمام ممالک نے خصوصی ڈیسک بنا رکھے ہیں جو پاکستان پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں  لیکن بدلتے ہوئے حالات اس بات کی نوید سنا رہے ہیں کی پاکستان کو دنیا میں ایک ممتازمقام حاصل ہونے والا ہے۔ دنیا کی تمام بڑی طاقتوں کا جھکاو پاکستان کی طرف ہے۔ پاکستان جنوبی ایشیاء کو وسطی ایشیاء سے ملاتا ہے یعنی انرجی پروڈیوسرز اور انرجی کنزیومرز کے درمیان پل ہے۔ دنیا توانائی بحران کا شکارہے ایسے میں پاکستان کی اہمیت کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتاہے۔ پاکستان کا ہمسایہ ملک چین دنیا کی سب سے بڑی معاشی طاقت ہے۔ یہ دنا کا واحد ملک ہے جسے اپنی ترقی کی رفتار کو روکنا پڑتا ہے تاکہ معاشرتی بیلنس خراب نہ ہو۔ چین کو دنیا میں سب سے پہلے تسلیم کرنے والا ملک پاکستان ہے۔ پاکستان چین کے تعلقات 1951 میں قائم ہوئے اور وقت کے ساتھ ان میں مضبوطی ہی آئی ہے۔ چین نے پاکستان میں دنیا کی تاریخ کا سب سے بڑا منصوبہ شروع کیا جس کو پاک چائنا اقتصادی راہداری کا نام دیا گیا۔  

پاک چائنا اقتصادی راہداری

پاک چائنہ اقتصادی راہداری میں چین اپنی تاریخ کی سب سے بڑی سرمایہ کاری کرنے جارہا ہے جو 46 ارب ڈالر ہے۔ اس منصوبے کو 2030ء میں پایہ تکمیل کو پہنچنا ہے۔ اس منصوبہ میں متعدد پروجیکٹس شامل ہیں جن میں سر فہرست پورے ملک میں سڑکوں کا جال بچھانا، کراچی سے خیبر تک ریلوے کی اپ گریڈیشن، گوادر بندرگاہ کا قیام اور اسے بین الاقوامی صنعتی و تجارتی شہر بنانا، ملک میں صنعتی زونز کا قیام، توانائی کے منصوبے شامل ہیں۔ اب تک 32 پروجیکٹس مکمل کیے جا چکے ہیں۔ باقی پر تیزی سے کام جاری ہے۔ دونوں ممالک اس منصوبے کی رفتار کا معائنہ کر رہے ہیں۔ پچھلے سال حکومت پاکستان نے ترقیاتی بجٹ میں کمی کی جس کی وجہ سے بعض منصوبے التواء کا شکار ہو گئے۔ لیکن اب دوبارہ زیر التواء منصوبوں پر کام شروع کر دیا گیا ہے۔

سی پیک کی چین کے لئے اہمیت  

سی پیک دنیا کا سب سے بڑا معاشی منصوبہ ہے۔ سی پیک میں ہمارے مفادات سے زیادہ چین کے مفادات شامل ہیں، سی پیک کی تکمیل کے بغیر چین کا سپر پاور بننے کا خواب کبھی پورا نہیں ہو سکتا۔ چین عرب ممالک سے روزانہ کی بنیاد پر60 لاکھ بیرل تیل منگواتا ہے۔ جو سمندری راستے سے چین تک پہنچتا ہے۔ جسکا فاصلہ 12000 کلو میٹر کے قریب بنتا ہے۔ بعض ممالک کے ساتھ چین کے تعلقات اچھے نہیں جسکی وجہ سے سمندری راستے کو کسی وقت بھی مسدود کیا جا سکتا ہے، جسکی وجہ سے چین کی معیشت کو تباہ کیا جا سکتا ہے۔ اس کے متبادل زمینی راستہ گوادر سے چین تک صرف 3000 کلو میٹر ہے۔ جو کہ ایک محفوظ ترین  راستہ ہے اور کم وقت میں دستیابی ممکن ہے ۔ اس کے علاوہ چینی مصنوعات وسطی ایشاء ، افریقہ اور عرب ممالک میں کم ترین وقت میں اور کم ترین اخراجات میں پہنچ سکتی ہیں ۔

سی پیک کی پاکستان کے لئے اہمیت

سی پیک پاکستان کی لئے ایک گیم چینجر منصوبہ ہے۔ سی پیک کی تکمیل پاکستان کا معاشی نقشہ بدلنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس سے پہلے انڈس واٹر ورکس منصوبہ بھی پاکستان کے لئے گیم چینجر ثابت ہو چکا ہے۔ جس کے دوررس نتائج حاصل ہوئے۔ لیکن اس منصوبے کا فائدہ صرف پنجاب اور سندھ کو ہوا۔ بلوچستان ، خیبر پختونخوا اور فاٹا پسماندگی کا شکار ہو گئے۔ لیکن سی پیک کا مغربی روٹ ان علاقوں کے لئے ترقی کی نوید لے کر آیا ہے۔

سی پیک منصوبے کی وجہ سے انفرا سٹرکچر میں بہتری، توانائی کے شعبے میں خود کفالت کے علاوہ ایک اندازے کے مطابق 2015 سے 2030 تک 23 لاکھ لوگوں کو روزگار کے مواقع میسر آئیں گے۔ صنعتی زونز کے قیام کی وجہ سے پاکستان کی پیدواری صلاحیت میں بھی اضافہ ہو گا جس کی وجہ سے غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں خاطر خواہ اضافہ ہوگا ۔ تجزیہ کاروں کے مطابق سی پیک پاکستان میں صنعتی انقلاب کی راہ بھی ہموار کرے گا۔ اس کے علاوہ راہداری وصولی کی مد میں پاکستان کو ملنے والی رقم سے پاکستان ترقی یافتہ ممالک کی فہرست میں شامل ہو جائے گا۔

سی پیک کےممکنہ نادیدہ نقصانات

ہر ایک منصوبے کی طرح سی پیک کے بھی ممکنہ نقصانات پر ایک نظر ڈالنے کی ضرورت ہے۔  جہاں سی پیک پاکستان کو معاشی میدان میں سبقت دلا سکتا ہے وہیں اسکے منفی پہلو بھی ہیں جن کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا ۔ امریکی تجزیہ کاروں کے مطابق سی پیک کا فائدہ صرف چین کو ہونے والا ہے۔ اور اس سے صرف چینی مفادات کا تحفظ ہو گا۔ چین پاکستان کو سی پیک کی مد میں قرضہ بھی دے رہا ہے جو کہ ہر گز آسان شرائط پر نہیں ہے۔ ماہرین اسے چین کا جل قرار دے رہے ہیں کہ آنے والے وقتوں میں پاکستان چین کا اس قدر مقروض ہو جائے گا کہ اسے مجبورا چین کی ہاں میں ہاں ملانی پڑے گی۔ لیکن یہ تمام باتیں محض قیاس آرائیاں ہیں۔


حقیقی طور پر سی پیک کے خطرات جو نظر آ رہے ہیں وہ درج ذیل ہیں۔

۔ مینو فیکچرنگ سیکٹر کی تباہی

۔ درآمدات میں آضافہ اور برآمدات میں کمی سے توازن ادائیگی منفی رہنے کا خدشہ

۔ سی پیک سے حاصل ہونے والا قیمتی زرمبادلہ کا قرضوں پر سود کی ادائیگی میں صرف ہونا

۔ سی پیک روٹ کے سیکورٹی اخراجات

۔ گوادر پورٹ کی آمدنی میں پاکستان کا حصہ اور پاکستان کے حصے میں بلوچستان کا حصہ

۔ سی پیک کی آمدنی میں صوبوں کا حصہ

۔ سی پیک کے ماحول پر منفی اثرات


پاکستان کوان تمام باتوں کو مدنطر رکھتے ہوئے ایک جامع حکمت عملی ترتیب دینا ہو گی۔ ان تمام ممکنہ خطرات پر حکومت قوم کو اعتماد میں لے۔ اگر ان تمام ایشوز کو ایڈریس نہ کیا گیا تو خدا نخواستہ نئے صوبائی مسائل جنم لے سکتے ہیں۔  ملک میں سی پیک کے موضوع پر سیمنار منعقد کروائے جائیں۔ تھنک ٹینکس سی پیک کے حوالے سے سفارشات مرتب کریں اور حکومت ذاتی طور پر اس میں دلچسپی لے۔

پاک چین اقتصادی راہداری نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کی ترقی کی ضمانت ہے۔ یہ حکومتوں کے مابین منصوبہ نہیں بلکہ عوام کا منصوبہ ہے لہذا سیاست کو بالا طاق رکھتے ہوئے ہر حکومت کو اس میں یکساں دلچسپی لینی ہوگی تاکہ سی پیک کے تمام منصوبے اپنے مقررہ وقت میں پایہ تکمیل کو پہنچیں    

Author: Sharjeel Afzal
The writer is a Defense and Strategic Analyst and can be reached at: sharjeel502(at)gmail(dot)com.

2 thoughts on “کیا سی پیک واقعی ایک گیم چینجر منصوبہ ہے؟

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s