ففتھ جنریشن وار فیئر اور پاکستان

نوجوان کسی بھی ملک کا ایک قیمتی سرمایہ ہیں کیونکہ آگے چل کر ملک کی باگ دوڑ نوجوانوں نے ہی سنبھالنی ہوتی ہے ۔ پاکستان دنیا کے ان چند ممالک میں شامل ہے جہاں ملک کی آبادی کا ایک بڑا حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ ہمارے ملک کے نوجوان زرخیز ذہنوں اور بے پناہ صلاحیتوں کے مالک ہیں ۔ نوجوان نہ صرف معاشرے میں مثبت تبدیلی لا سکتے ہیں بلکہ ملکی ترقی میں اپنا اہم کردار ادا کر سکتے ہیں ۔ لیکن توجہ طلب مسئلہ یہ ہے کی کیا ہم اپنے نوجوانوں کی تربیت اس انداز سے کر رہے ہیں کہ وہ معاشرے میں اپنا اہم اور مثبت کردار ادا کر سکیں؟ اگر دیکھا جائے تو آج کے نوجوان کی معلومات اور تربیت کا زیادہ تر دارومدار میڈیا پر ہے۔ چاہے وہ سوشل میڈیا ہو یا پرنٹ اور لیکٹرانک میڈیا۔ میڈیا کی افادیت اور ضرورت سے قطعی انکار ممکن نہیں لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہمارا میڈیا نوجوانوں کی تربیت مین کوئی مثبت کردار ادا کر رہا ہے؟

  بیسویں صدی کے آخر میں جب دنیا کی بڑی طاقتوں نے نیوکلیئر انرجی حاصل کرلی تو تمام دنیا کے دفاعی تجزیہ کار ایک بار پھر سر جوڑ کر بیٹھ گئے کہ دشمن کو شکست کیسے دی جائے۔ جس کے بعد امریکی دفاعی دانشوروں نے  ففتھ جنریشن وار فیئر کی ایک نئی اصطلاح سے دنیا کو متعارف کروایا۔  اس وار فیئر کا سب سے بڑا ہتھیار میڈیا ہے ۔ جس کی مدد سے کسی بھی قوم کو اپنا ہم خیال یا ذہنی غلام بنا لیا جاتا ہے۔ احساسِ کمتری، ذہنی خلفشار،احساسِ عدم تحفظ، اورقوم کے مورال کو پست کر کے عوام کو انتشار پر اکسایا جاتا ہے۔ منفی پروپگینڈا یا جھوٹی خبریں جلتی پر تیل کا کام کرتے ہیں اور کسی بھی ملک کو بغیر کسی ہتھیار کے استعمال تسخیر کر لیا جاتا ہے۔

پاکستان دفاعی اعتبار سے ایک ناقابل تسخیر ملک ہے۔ اور اس بات میں کسی طور بھی شک کی کوئ گنجائش نہیں۔ دشمن ہمیں کئی بار آزما چکا ہے۔ اور وہ اس بات کا مکمل ادراک رکھتا ہے کہ پاکستان کو جنگی محاذ پر شکست دینا ممکن نہیں اور نہ اسے افغانستان، عراق، لیبیا، یا شام کی طرح تباہ و برباد کیا جا سکتا ہے۔ چنانچہ دشمن نے ہمیں پراکسی وار اور ففتھ جنریشن وار فئیر سے زیر کرنے کی کوشش کی۔ الحمد اللہ پاکستان نے دنیا کی تاریخ کی سب سے بڑی پراکسی وار کا مقابلہ کیا اور دشمن کو شکست دی۔ تمام حربے آزمانے کے بعد آج دشمن نے ہم پر ففتھ جنریشن وار مسلط کی ہے۔  آج ہمارا میڈیا جو جمہوریت کا چوتھا ستون قرار دیا جاتا ہے وہ اس جنگ میں دشمن کا سب سے بڑا ہتھیار ثابت ہو رہا ہے۔ میڈیا آئے روز ہمیں علاقائی، لسانی، سیاسی، اور مذہبی مسائل میں الجھا کر قوم کو تقسیم کرنے میں مصروف عمل ہے۔ روشن خیالی اور مذہبی انتہا پسندی کے نام پر ہمیں اپنی روایات سے دور کیا جا رہا ہے، اور نوجون نسل کے ذہنوں میں فحاشی، شدت پسندی، اور عدم برداشت کے زہریلے خیالات انڈیلے جا رہے ہیں۔ تا کہ ہمارے نوجوان اپنی اقدار سے بیزار ہو جائیں۔ ایک مشہور مقولہ ہے کہ “جب کوئی قوم اپنی روایات سے بیزاری کا اظہار کرے تو جان لیں کہ وہ قوم کھوکھلی ہو چکی ہے۔ اور محض ایک دھکا اسے نیست و نابود کرنے کے لئے کافی ہے۔”

 یہاں یہ بات قابل غور ہے کہ دفاعی ادارے اکیلے اس جنگ میں فتح حاصل نہیں کر سکتے بلکہ یہ اس قوم کا اجتماعی مسئلہ ہے اور ہم سب کسی نہ کسی صورت اس جنگ میں شریک ہیں اور ہم سب کو اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔ اس ضمن میں ہم سب کو مل کر ایک ایسا لائحہ عمل تشکیل دینے کی ضرورت ہے کہ ہم اپنی نوجوان نسل کو اس وار فئیر سے بچا سکیں۔ حکومت کو بھی اس نازک صورتحال میں اپنا موثر کردار ادا کرنا ہو گا۔ میڈیا کی آذادی کا ہر گز یہ مطلب نہیں ہے کہ من چاہی پالیسی پر عمل کیا جائے اور نظریہ پاکستان سے متصادم کوئی بھی پروگرام چلایا جائے۔ حکومت کو چاہیے کہ ایک ایسا قانون متعارف کروائے جو میڈیا کو نظریہِ پاکستان کی حفاظت، ہماری حقیقی اسلامی روایات اور اقدار کی اشاعت، اور اعتدال پسندی کی ترغیب کا پابند بنائے جبکہ غیر ملکی ایجنڈے کی نفی اور غلط روایات اور رسومات کی ترویج سے روک سکے۔ یہاں یہ بات بھی قابل غور ہے کہ میڈیا مالکان ایسے کسی بھی قانون کو آسانی کے ساتھ قبول نہیں کریں گے جس سے انکی آمدنی کم ہو اسلئے حکومت کو چاہیے کہ وہ قانون پر عمل درآمد کے لئے مناسب اقدامات کرے۔ اس کے ساتھ ہی حکومت کو چاہیے کہ اپنے قومی نشریاتی ادارے کو مضبوط کرے۔ قومی نشریاتی ادارے کو صرف حکومت وقت کے قصیدے کہنے کے لئیے مختص کرنا نہ صرف آنے والی نسل کے ساتھ دشمنی ہے بلکہ ملک کے ساتھ بھی غداری ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ ایک ایسی جامع حکمت عملی مرتب کرے جس سے ہماری نوجوان نسل کی تربیت کی جا سکے اور انکو اپنی اقدار سے آگاہی حاصل ہو اسکے ساتھ ساتھ وہ جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ کرتے ہوئے دنیا کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چل سکیں۔

نوجوان نسل پر میڈیا کے منفی اثرات کے سدباب اور اس ففتھ جنریشن وار فئیر کا مقبلہ کرنے کے لئیے چند سفارشات درج زیل ہیں۔


پاکستان ایک نظریاتی ریاست ہے لہذا قومی ٹی وی چینل پر ایسے پروگرام چلائے جائیں جو نوجوان نسل کو نظریہِ پاکستان اور خطے کی ثقافت اور روایات سے روشناس کروائیں اور اسلامی اقدار کا تحفظ کر سکیں۔ نیز پرائیویٹ ٹی وی چینلز کو بھی اس بات کا پابند بنایا جائے کہ وہ ایسے پروگرامز کو اپنی نشریات کا حصہ بنائیں۔


ہمارے بزرگوں اور ہیروز کی زندگی پر اور تحریک آزادی پاکستان پر مبنی ڈاکومینٹریز، ڈراموں، اور فلموں کو نشریات کا حصہ بنایا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہمیں ان مثبت قومی رویوں اور اخلاقی اقدار پر بھی بات کرنی چاہیے جو قوموں کی ترقی اور سربلندی کے لئے اہم ہیں، جن میں سرفہرست برداشت اور رواداری ہے۔ جبکہ عدم برداشت، تفرقہ بازی، اور شدت پسندی جیسے جذبات کی حوصلہ شکنی کرنی چاہیے۔


بچوں اور نوجوانوں کی دلچسپی اور تربیت کے لئے علمی اور تحقیقی پروگرامز نشر کیے جائیں جو نوجوان نسل میں تحقیق کی لگن پیدا کریں اور نوجوان تحقیقی علم کی طرف راغب ہوں۔ ایسے پروگرامز میں نوجوان طلباء اور اساتذہ کرام کو شامل کیا جائے اور دور حاضر کے جدید تحقیقی مسائل اورنتائج پہ بحث کی جائے۔ تا کہ نوجوان نسل کتابوں کے بوجھ اور نمبروں کی دوڑ سے آزاد ہو کر اپنی تحقیقی اور تخلیقی صلاحیتوں کو منوا سکے ۔


قومی اور بین الاقوامی مسائل پر گفتگو اور بحث میں بھی متعلقہ طبقے کے اسکالرز، اساتذہ کرام، طلباء، اور سٹیک ہولڈرز کو شامل کیا جانا چاہیے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ صرف مسائل کی نشاندہی اور واویلا کرنے کی بجائے ہم ایسے مسائل کا عملی اور غیر جانبدارانہ حل تلاش کریں اور حکومت وقت اور قوم کی درست سمت میں رہنمائی کریں۔ ایسا کرتے ہوئے ہمارے معززین اور بحث میں شامل افراد کو اعتدال پسندی اور تحمل کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہیے، اور بحث برائے بحث کی بجائے متفقہ طور پر ہر مسئلے کا بہترین اور قابل عمل حل طے کرنا چاہیے۔


سوشل میڈیا ففتھ جنریشن وار فئیر کا سب سے بڑا ہتھیار ہے۔ اس جنگ کو اگر ہم نے جیتنا ہے تو ہمیں سوشل میڈیا پر ایسے پلیٹ فارم نوجوانوں کو مہیا کرنے ہوں گے جو جعلی پروپگینڈے کو بے نقاب کریں، اور پاکستان اور اسلام کا اصل چہرہ دنیا کے سامنے لائے۔

ہمیں چاہیے کہ ہم سب اپنا مثبت کردار ادا کریں اور ایسی حکمت عملی ترتیب دیں کہ ہم ففتھ جنریشن وار فئیر کو شکست دے کر اپنی آنے والی نسلوں کو زیادہ مضبوط اور مستحکم پاکستان دے سکیں۔

شرجیل

Writer: Sharjeel Afzal
The writer is a Defense and Strategic Analyst and can be reached at: sharjeel502(at)gmail(dot)com.

2 thoughts on “ففتھ جنریشن وار فیئر اور پاکستان

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s