رائزنگ پاکستان

ملک سے باہر ہونے کی وجہ سے میں ہمیشہ اپنے ملک، خاندان، اور لوگوں کی فکر میں رہتا تھا۔ مجھے شاذ و نادر ہی کوئی مثبت خبر ملک کے الیکٹرانک میڈیا پر دیکھنے کو ملتی تھی۔ نیز، بین الاقوامی میڈیا نے بھی اس تناظر میں کبھی پاکستان کی صحیح تصویر پیش نہیں کی۔ جب ہمارے اپنے میڈیا ہاؤسز ہی یہی کام کر رہے تھے تو ہمارے معاشرے کی ایسی مکروہ تصویر کشی کے لئے کوئی بھی بین الاقوامی میڈیا پر الزام نہیں لگا سکتا۔ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے کردار پر الگ سے بحث کی جائے گی، لیکن آئیے دیکھتے ہیں کہ کیا واقعتاً پاکستان پچھلی چند دہائیوں میں ناکام ہو رہا تھا؟

اس وقت پاکستان میں افراتفری اور مایوسی سڑکوں پر نظر نہیں آتی ہے، اور ہر چیز “آہستہ آہستہ” کام کرتی نظر آتی ہے۔ ہاں، اس ملک کو مصیبتوں کا سامنا کرنا پڑا ہے اور دنیا کے دیگر ممالک کے برعکس، پاکستان 1947 سے کئی محاذوں پر اپنے دشمنوں کا مقابلہ کر رہا ہے۔ ہمارا دشمن نہ صرف ایک ہمسایہ ملک تھا (جو ہم سے چھ گنا بڑا تھا)، بلکہ ناخواندگی، بدعنوانی، ناانصافی، مذہبی عدم برداشت، انتہا پسندی، اور دہشت گردی سب ہمارے دشمن تھے۔

بدقسمتی سے، پاکستان اپنے جغرافیائی و سیاسی پس منظر اور معاشی حالات کی وجہ سے 1980 کی دہائی میں افغانستان میں کسی اور کی جنگ لڑنے پر اور 2001 سے طالبان اور القاعدہ کی دہشت گردی کے خلاف جنگ کی حمایت کرنے پر مجبور ہوا ہے۔ اس کے نتیجے میں پاکستان کو دہشت گردی کا سامنا کرنا پڑا، بے گناہ جانوں کی قربانی، وسائل کا ضیاع، بنیادی ڈھانچے کی تباہ کاری، اور اربوں ڈالر کا معاشی نقصان اٹھانا پڑا، جبکہ پاکستان نے اس دوران 30 سال سے زائد عرصے تک 30 لاکھ سے زائد افغان مہاجرین کی مہمان نوازی کی۔ ان امور کی وجہ سے غیر واضح اور متضاد معاشی اور خارجہ پالیسیوں کا بھی سامنا کرنا پڑا۔

تاہم ان مشکلات کے باوجود پاکستان اور اس کے عوام نے کبھی ہمت نہیں ہاری۔ اب ملک نے ماضی کے اپنے بہت سارے مسائل پر قابو پالیا ہے جیسا کہ دہشت گردی کو شکست دینا اور پاک افغان سرحد کے ساتھ واقع قبائلی علاقوں میں دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانے ختم کرنا۔ اسی دوران، تمام معاشی مشکلات کے باوجود پاکستان ایک خودمختار جوہری اور میزائل پروگرام کے ساتھ ایک ایٹمی طاقت بن گیا۔ اور اس نے اسلحہ ، ٹینک اور لڑاکا طیارے مقامی طور پر تیار کیے ہیں۔ پاکستان نے ہمیشہ اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ یہ پروگرام ملکی دفاع کو فروغ دینے اور اس کی خودمختاری کے تحفظ کے لئے ہیں نہ کہ جارحیت کے لئے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان اپنے مشرقی دشمن کے ساتھ ہتھیاروں کی دوڑ میں شامل نہیں ہوا۔ ان مثالوں کو پیش کرنے کا مقصد ہماری قوم کے عزم اور اس کی مقصد کے لئے لگن کو ظاہر کرنا ہے۔ یہ دنیا کی توقعات سے بالاتر ہے کہ پاکستان تین دہائیوں تک جنگ اور دہشت گردی کا سامنا کرنے کے بعد اس مقام پر پہنچ سکتا ہے اور اتنا پرامن اور مضبوط ہوسکتا ہے۔

حال ہی میں پاکستان کی کووڈ-19 حکمت عملی کو دنیا بھر میں سراہا گیا ہے۔ اگرچہ بہت سارے ترقی یافتہ پہلی دنیا کے ممالک اس وبائی مرض کی وجہ سے حیرت میں پڑ گئے تھے اور انہیں اس طرح کے غیر معمولی حالات میں قیادت اور پالیسی چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑا تھا، پاکستان نے کامیابی کے ساتھ اس صورتحال سے نمٹا۔ بڑے شہروں کو مکمل طور پر مقفل کرنے، بیمار افراد سے رابطوں کا سراغ لگانے، جانچ اور مشتبہ افراد کو قرنطینہ کرنے کی حکمت عملی، اور طبی اور ذاتی حفاظتی آلات کی ملکی سطح پر تیز رفتار ترقی اور پیداوار نے پاکستان کو بیش بہا فائدہ پہنچایا ہے۔ ایک غیر معمولی اقدام میں، تمام معاشی پریشانیوں کے باوجود حکومت نے لاک ڈاؤن کے دوران 13 ملین غریب خاندانوں میں 1.61 بلین روپے سے زیادہ رقم تقسیم کرکے معاشی بوجھ بانٹ لیا۔ اسی طرح کووڈ-19 کے مریضوں کی تعداد میں کمی کے بعد سمارٹ لاک ڈاؤن ، یعنی مختلف کاروباروں کی مخصوص اوقات میں بحالی کی اجازت دی گئی۔ لہذا قوم کے باخبر اور ذمہ دارانہ اقدامات اب ثمر آور ہیں اور زندگی معمول کی طرف لوٹ رہی ہے۔

اگرچہ پاکستان ایک نوعمر جمہوریت ہے اور اب بھی اپنے تجربات سے سبق حاصل کر رہا ہے، لیکن اب اس کی خارجہ اور معاشی پالیسیاں زیادہ واضح ہیں۔ نئی خارجہ پالیسی احترام اور باہمی مفادات پر مبنی ہے، جبکہ نئی معاشی پالیسی ٹیکس کی بنیاد کو وسیع کرنے، امیروں کے لئے سبسڈیوں میں کمی، جبکہ سب سے کم صارفین کے لئے توانائی کی کم قیمت برقرار رکھنے، اور غریب ترین لوگوں پر عوامی اخراجات بڑھانے پر مرکوز ہے۔ ان اقدامات سے دیرینہ معاشی مسائل حل ہوں گے اور اعلی نمو کی سمت طے ہوگی۔ لہذا ابھی وقت کی بات ہے کہ پاکستان دنیا کی اگلی ابھرتی معیشت بن جائے گا۔ اس وقت چین پاکستان اقتصادی راہداری، گوادر میں ایک گہری سمندری بندرگاہ کی ترقی، شمال سے جنوب کو ملانے والی شاہراہوں کا جال، متبادل توانائی اور پانی ذخیرہ کرنے والے منصوبے، اور بڑے پیمانے پر شجرکاری مہم چند اچھی چیزیں ہیں جو پاکستان میں جاری ہیں۔ لہذا ، قوم کو مایوس ہونے یا گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے

پاکستانی عوام کو اپنے ملک پر فخر کرنا چاہئے اور اپنے روشن مستقبل کے لئے پر امید رہنا چاہئے۔ پاکستان کامیابی کی طرف گامزن ہے اور صحیح وقت پر عروج حاصل کر رہا ہے۔ ہمیں پاکستانی عوام کو تعلیم دینے اور انہیں صحیح سمت میں رہنمائی کرنے میں سرمایہ کاری کرنے کی ضرورت ہے۔ تعلیم ایک مضبوط قوم کی تعمیر کا بنیادی ذریعہ ہے، جبکہ ایمانداری، خود اعتمادی، صبر، رواداری، اعتدال پسندی، اور مساوات ہماری مستقبل کی نشوونما اور ترقی کے لئے صحیح سمت ہیں۔

قوم کو یہ یقین کرنا ہو گا کہ ترقی پاکستان کا مقدر ہے اور لوگ پاکستان کو دنیا کی سیاست اور مستقبل کے نقطہ نظر میں اہم کردار ادا کرتے ہوئے دیکھیں گے۔ انشاء اللہ

ابو محمد

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s